Sunday, 21 August 2016

ہجوم

0 comments

ملحقہ گلیوں کی نسبت یہ گلی زیادہ بارونق تھی۔ ایک تو کشادہ تھی اوپر سے بھانت بھانت کے لوگوں کی آماجگاہ۔۔ گوشت کی دوکان بھی یہیں واقع تھی اور چائے کا ڈھابا نما ہوٹل بھی۔۔۔ اس گلی سے نکلتے ہی بائیں جانب مین روڈ پر لڑکوں کا ایک سرکاری سکول تھا۔۔ سکول سے قریب ترین ہونے کی وجہ سے گیارہ بجتےہی اس گلی میں رنگ برنگے ٹھیلوں کا تانتا بندھ جاتا کیونکہ سکول کے سامنے فٹ پاتھ پر ٹھیلے لگانے کی جگہ نا تھی نا ہی اجازت اور سکول سے قریب ترین جگہ یہی گلی بنتی تھی۔ ہاف بریک یا چھٹی کی گھنٹی کیا بجتی گویا صور پھونک دیا گیا ہو۔۔ چھوٹے بڑے بجے شور و غوغا مچاتے ان ٹھیلوں کے گرد گھیرا ڈال لیتے۔۔۔چاچو آلو چھولے دینا۔۔ انکل مصالحہ زیادہ ڈالنا۔۔ بھائی آپ نے چٹنی کم ڈالی ہے۔ ۔۔ انکل میں کب سے کھڑا ہوں پہلے مجھے بھٹہ دیں۔۔ انکل یہ لڑکا آپ کے تھیلے سے پیسے چرانے کی کوشش کرر ہا ہے۔ بھانت کی بولیاں کبھی کبوتر کی گٹر گوں لگتی کبھی مچھلی منڈی کا سا سماں باندھ دیتیں۔۔  اگرچہ سکول کے اندر ایک صاف ستھری کینٹین کا انتظام تھا لیکن جو مزہ ان چٹ پٹی، رنگ برنگی، نامعلوم مگر لزیز ذائقے سے لبریز اشیا خورد و نوش میں تھا وہ کینٹین کے پھیکے اور مصالحوں سے محروم سینڈوچز اور برگرز میں کہاں۔ بچوں کی رغبت کی وجہ یہ بھی تھی کہ کینٹین کی نسبت ٹھیلوں کی خوش ذائقہ اشیا کم نرخ پر دستیاب تھیں ۔ حتی کہ چھٹی کے بعد بھی گھنٹہ بھرکے لیے گلی نیلی قمیضوں اور خاکی پینٹوں میں مبلوس ہیولوں سے بھری رہتی جن کی کمروں پر جہازی سائز بیگ لٹکے ہوتے۔۔

سہہ پہر ہوتی تو گلی نمبر پانچ والے ڈاکٹر ظہور ‘‘الشمس چائے والا’’ پر آ دھمکتے۔ وہ آجکل گلی نمبر تین میں بسنے والے میاں اجمل کی سیاسی جدوجہد  کی داستانوں سے دل پشوری کرنے میں مشغول تھے جنہوں نے اس دفعہ کونسلر کا الیکشن جیتا تھا اور آئیندہ ایم پی اے کا الیکشن لڑنے کا عزم کیے بیٹھے تھے۔ حاجی مہر علی صاحب جو ‘الشمش چائے والا’ سے دو گزر پرے واقع گوشت کی دوکان سے روزانہ  گوشت خریدنے آتے تھے،  شمس کے ہاتھ کی بنی چائے پینا نا بھولتے۔۔۔ اس طرح انہیں اخبار کی ورق گردانی کا بھی بہانا مل جاتا تھا۔ ان کے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر طے شدہ مقاصد میں سیاست و معاشرت پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کرنا بھی شامل ہوتا تاکہ عوام الناس ان کے دانشمندانہ تجربات و خیالات سے سیکھ سکیں۔ وہ وقفے وقفے اپنی داڑھی میں خلال کرتے ہوئے لفظ کھینچ کھینچ کر گفتگو کرتے تھے۔۔۔۔گفتگو میں غیر معمولی ٹھراؤ ہوتا۔۔ وہ بات کرتے کرتے اچانک چپ ہو کر سوچنے لگتے جس سے ان کی شخصیت میں ایک عجیب طرح کی سنجیدگی اور متانت جھلکنے لگتی جو کبھی کبھی وہاں موجود کسی اجنبی کومضحکہ خیز معلوم ہوتی ۔چونکہ حاضرین میں سے زیادہ تر کا تعلق اسی گلی سے ہوتا اس لیے سب اس کی بات توجہ سے سنتے  تھے۔ ایک تو وہ اس گلی کے قدیم رہائشی تھے، دوسرا مرکزی بازار میں ان کی ذاتی دو دکانیں کرائے پر چڑھی ہوئی تھیں، تیسرا وہ اپنی گفتگو میں عالمی صورتحال کا حوالہ دینا نہیں بھولتے تھے کیونکہ انکا ایک بیٹا شارجہ سدھارا ہوا تھا جس سے ٹیلی فونک رابطہ ما بین سرحدین سیاسی و عسکری حالات کی خبریں کشید کرنے میں انکا معاون تھا ۔اور شائد اس گلی کے وہ واحد مکین تھے جن کے گھر روزانہ گوشت پکتا تھا۔ کسی بھی آدمی کی ممتاز شخصیت کی شناخت اور اس سے ملحقہ دانش کو ماپنے کے لیے یہ پیمانے بہتیرے تھے۔

وہ جمعرات کا روز تھا ۔۔۔ بچوں کو چھٹی ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی اور وہ گلی میں اودھم مچا کر اپنے اپنے گھروں کو ہو لیے تھے۔۔۔ گلی میں اب اکا دکا نیلی شرٹوں کے بیچ و بیچ چمکیلے و سفید کاغذ ادھر ادھر لڑھک رہے تھے۔ جب کوئی موٹر سائکل گلی سے گزرتی تو یہ کچرا کاغذ یوں دور بھاگتے جیسے ڈر گئے ہوں جبکہ راہ گیروں کی ٹانگوں سے لپٹنے کی یوں کوشش کرتے جیسے کہہ رہے ہوں ہمیں ساتھ لے چلو بابو جی۔۔۔۔  دوپہر کے ان لمحات میں ‘‘ الشمس ہوٹل’’ پر رش کم ہو جاتا تھا۔۔۔ہوٹل کا مالک بھاری بھرکم بھائی شمس کافی مستعدی کا مظاہرہ کر چکنے کے بعد اب سستا رہا تھا۔ ۔۔ پچھلے دو گھنٹوں تک اسکی تینوں میزیں گاہکوں سے پر رہیں۔ اسے گاہکوں کو متوجہ کرنے ۔۔۔۔۔۔ ضروت کے مطابق انہیں وہاں دیر تلک بٹھائے رکھنے یا جلدی چلتا کرنے کے گر آتے تھے۔۔۔ ۔ وہ کوئی واقعہ سنتا توا سے دلچسپ داستان میں ڈھال لیتا۔۔ ہر پندرہ بیس منٹس بعد وہ اپنے گاہکوں کی طرف موجودہ سیاسی و سماجی صورت حال پر فقرہ پھینکنا نہیں بھولتا تھا۔۔۔۔۔  یہ اسکی ایک ٹیکٹک تھی اس سے گاہک گرما گرم بحث میں الجھ جاتے ۔۔۔ اگر بحث لمبی چلتی تو سمجھو کہ چائے کا آرڈر دینا تو لازم ٹھرا اور یہی بھائی شمس کی منشا ہوتی۔ ڈاکٹر ظہور جب اسکے ہوٹل میں نمودار ہوا تو وہ فریزر میں سے دودھ رکھ رہا تھا اور ساتھ اپنے اس وقت تک کے اکلوتے گاہک سے محو گفتگو تھا۔۔ مٹیالے رنگ کے شلوار قمیض میں مبلوس یہ ادھیڑ عمر شخص ماٹھے قد کا سرکاری نمائیندہ تھا جو گلی میں کسی گھر کی ٹیلی فون کی شکایت دور کرنے آیا تھا اور شمش کی دوکان پر چائے پینے کو رک گیا تھا۔ چائے کا آرڈر دے کر جب اس نے اخبار اٹھایا تو پہلی خبر دیکھ کر ہی اس کے منہ سے گالی نکل گئی۔۔ بہن چ۔۔۔۔ یہ ساری قوم کو ہو کیا گیا ہے؟ جھوٹی افواہیں بھی اب فرنٹ پیج پر سرخیاں بن کر چھپنے لگیں؟ ۔۔۔۔ یہ معیار رہ گیا ہے صحافت کا؟ کیا ہوا بھائی صاحب؟؟ شمس نے اپنی قمیض سے ہاتھ پونچھتے ہوئے سرسری انداز سے پوچھا۔۔ وہی ہوا ہے جو اتنے دنوں سے ہو رہا ہے۔ وہ مسئلہ جسے تدبر اور تحمل سے سلجھانے کی ضرورت ہے اس پر سنسنی اور ہیجان پیدا کرنے کا آخر مقصد کیا ہے؟؟  اب ایسے اخبار بکا کریں گے؟ اس نے اخبار شمس کی طرف لہرا کر جلی حروف میں لگی سرخی کی طرف اشارہ کیا۔ شمس نے جب یہ سنا تو اسے حیرت ہوئی اور کچھ عجیب بھی لگا کیونکہ آج کے دن یہ پہلا شخص تھا جس نے اس خبر کی تردید کی تھی وہ بھی اس خبر کی تردید کی جس کی توثیق ٹی وی اور اخبار کر رہے تھے۔ کیا بات کرتے ہو باؤ جی؟ لگتا ہے آپ ٹی وی نہیں دیکھتے یا آپکی اپنی اولاد نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔ شمس نے کھولتی چائے کو چولہے سے اتار کر دھار بنا کر کپ میں ڈالتے ہوئے فلسفیانہ انداز میں کہا۔ یہ جو تصویریں گھوم رہی ہیں۔۔۔۔۔ یہ جو سرگنہ پکڑے جا رہے ہیں یہ جھوٹ  کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے اشارے سے اپنے ملازم کو میز صاف کرنے کا کہا اور چائے کے کپ کے ساتھ  کیک اور رس گلے ٹرے میں سجا کر اسکے سامنے رکھے۔
میں بالکل تردید نہیں کرتا۔ ۔۔۔یقینا ایسے واقعات ہوئے ہوں گے یا ہورہے ہیں لیکن ان کی نوعیت اور تعداد اتنی ہی ہے جتنی ان افواہوں، ٹی وی کی خبروں اوراخبار کی ان سرخیوں سے پہلے تھی۔۔۔۔ کیا اب تک تمھاری اس گلی میں کوئی واقعہ ہوا ہے؟ آدمی نے چائے نما جھاگ کا سپ لیتے ہوئے کہا جس نے کپ کا ایک تہائی حصہ ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تک تو نہیں ہوا لیکن کبھی بھی ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی لوگ ان افواہوں سے چوکنے ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرح کی احتیاط برتی جا رہی ہیں۔ شمس غیر متوقع جوابات سے سست پڑ گیا تھا لیکن یونہی اس نے ڈاکٹر ظہور کو آتے دیکھا اس کی آواز میں جان پڑ گئی۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ آگئے اپنے ڈاکٹر صاحب ان کے تو دو چار واقف کار ہیں ٹی وی میں ۔یہ بتائیں گے کہ کیا جھوٹ ہے اور کیا سچ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ چائے بنانے کے لیے مڑا جبکہ دوسری جانب لامتناہی گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ شمس نے اپنے فہم کے مطابق اس گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس میں سے اپنے مطلب کے نتائج اخذ کرنے لگا، مثلاً موجودہ صورت حال کے ذمہ دار عوام خود ہیں کیونکہ وہ اپنی عسکری قوتوں کی ناقدری کرنے پر تلے ہوئے ہیں یا وہ بار بار کرپٹ سیاست دانوں کا انتخاب کرتے ہیں۔۔۔۔۔

اتنے میں گلی میں ایک ہلچل پیدا ہوئی۔ سب کلام منطقع کرکے اس جانب متوجہ ہو گئے۔ چند لمحوں بعد لوگوں کی جھگڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔ کچھ دیر خاموشی اختیار کر کے سب نے صورتحال سمجھنے کی کوشش کی لیکن شور مسلسل بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب اٹھ کر باہر بھاگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ لوگوں نے دو افراد کو گریبان سے دپوچ رکھا تھا. دونوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں. ایک نے کالی جینز کے ساتھ سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی. وہ گندمی رنگت لیکن خوش شکل اور دراز قد نوجوان تھا جبکہ دوسرا متوسط قامت نوجوان انگوری رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کیے ہوئے تھا۔۔۔  انکی چھدرری داڑھیاں اور پتلی مونچھیں ان کی نو عمری کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شمس تیزی سے آگے بڑھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہونا کیا ہے؟ ایک آدمی نے غصے سے پینٹ والے کا گریبان جھجھوڑتے ہوئے کہا۔ ۔۔۔۔ کتنی دیر سے میں ان دونوں کو دیکھ رہا ہوں....... ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ گلی میں مشکوک حرکتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی اس نکر سے اس نکر تک جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی اس  نکر سے اس نکر تک جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کہیں رک کر فون ملانے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی وہاں رک کر آپس میں کھسر پھسر کرنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ایک چھوٹے بچے کا پیچھا کرنے لگے ۔۔۔۔۔ ۔ مجھے شک ہوا تو میں نے آواز دے کر بلایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ بھڑوے  پرے دوڑ نکلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے  شور نا مچایا ہوتا تو یہ دونوں بھاگ نکلتے۔ بتاؤ اوئے کون ہو اور کر کیا رہے تھے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و و وہ۔۔ سفید ٹی شرٹ والا منمنایا۔ ہم تو سرجی! بس ایسے ہی گھوم رہے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوئے یہ تیرے باپ کا پارک ہے جہاں گھوم رہے تھے؟ جھوٹ بولتے ہو سالو! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نا اس گلی میں پہلے تم کو کبھی دیکھا ، نا کوئی جان پہنچان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہاں ٹہل رہے تھے؟۔۔۔۔۔ٹہل رہے تھے یا بچے اٹھانے کے چکر میں تھے؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سر جی ہمارا یقین کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بے ضرر لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلط فہمی کیسی؟ جب میں نے پیچھے سے آواز دی تو رکے کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاگ کیوں اٹھے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر وہ وہ دراصل۔ وہ۔۔ بس۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ  ہم ڈر گئے تھے۔؟ ڈرنا تو تھا ہی تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تمھارے مشن کی بھنک جو پڑ گٗی تھی۔ - - - - - - -  سیدھی طرح اعتراف کرلو کہ تم لوگ اغواہ کار ہو اور بچے اٹھانے آئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں سر جی۔ قران پاک کی قسم ایسی کوئی بات نہیں؟۔ہمیں لگا آپ کو معلوم پڑ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ہاں اب تو یہی کہو گے تم، پکڑے جو گئے ہو- - - - - - - -

بچے؟؟؟؟؟؟؟ بچے اٹھانے والے؟؟؟ ؟ بچے اغواہ؟؟؟؟ حاضرین ایک دم چونک اٹھے۔ چند لمحات تک پوچھ گچھ جاری رہی لیکن کوئی بھی تسلی بخش جواب نا ملنے پر سب کا فشار خون بلند ہونے لگا اور  سب ان پر بل پڑے۔ لاتیں...... گھونسے... مکے..... تھپٹر... سب نے حسب توفیق اس قومی فریضے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا...
جیسے جیسے ان کی ٹھکائی ہوتی رہی اتنی شدت سے ٹھکائی کرنے والے اس میں شامل ہوتے گئے۔ بات مزید بگڑی جب انگوری شلوار قمیض والے لڑکے کی جیب سے ایک چاقو اورپولی تھین کے چھوٹے سے بیگ میں لپٹا انگوری رنگ کا ہی ایک پھکی نما پاوڈر نکلا۔ یہ دیکھتے ہی سب کا غصہ مزید بگڑ گیا۔ ڈاکٹر ظہور نے فورا اپنے رپورٹر دوست کو فون کر کے تازہ خبر کا عندیہ بھیج دیا۔ ٹھیک پچیس منٹس بعد جب ٹی وی والوں کی وین پہنچی تو کیمرے دیکھ کر  دم توڑتے شور میں دوبارہ جان پڑ گئی۔ ہر شخص کی کوشش تھی کہ اس کا انٹر ویو لیا جائے اور اسے موقع ملے واردات بتانے کا۔ ٹی وی رپورٹر خاتون نہایت عجلت میں تھی۔ اسے کسی بھی اور چینل کی وین پہنچنے سے پہلے یہ ضبر بریک کرنا تھی۔ اس نے مجمع کو پرے ہٹایا اور مجرموں کی لائیو کوریج کرنے لگی۔ باقی لوگ بھی موبائل نکال کر دونوں کی تصویریں اور ویڈیو بنا رہے تھے۔ پینٹ شرٹ والا  بے ہوش ہو چکا تھا. اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ شرٹ کا سفید رنگ گرد اور خون  سے دو رنگا ہو رہا تھا۔ انگوری سوٹ والا البتہ ہوش میں تھا۔ اور بری طرح رو رہا تھا۔ وہ ابھی بھی کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ایک تو اسکا دانت ٹوٹ گیا تھا اوپر سے گلا رندھ جانے سے اسکی آواز الفاظ کی شکل ڈھالنے سے قاصر تھی۔ بس یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بیٹھا بین کر رہا ہو۔ ویسے بھی کسی کو اس کے بیان صفائی میں دلچسپی نا تھی۔ چہرے کی چوٹوں سے خون رس رہا تھا جو اسکے خدوخال کو بھیانک منظر کے طور پر پیش کر رہا تھا۔رپورٹر جاتون نے آناً فاناً دو منٹس کا لائیو بیان نیوز سٹوڈیو میں ریکارڈ کرایا ، ڈاکٹر ظہور، شمس اور حاجی صاحب کے بیانانت ریکارڈ کیے اور یہ جا وہ جا۔........... اب سب لوگ پولیس کا انتظار کر رہے تھے۔ لوگ بار بار پولیس کا نمبر ملا رہے تھے۔ شمس اس سے کچھ دور کھڑا مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا اور وقفے وقفے سے استہرائیہ نگاہوں سے سرکاری فون کے ملازم کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے پہلوان کشتی جیت کر چت پڑے مخالف کو دیکھتا ہے.. سرکاری نمائندہ  اس سے بے نیاز گم سم کھڑا واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے زمین پر پڑے دونوں لڑکوں کا بغور جائزہ لیا۔ پینٹ شرٹ والا لڑکا اوندھا پڑا ہوا تھا۔ اسکی پشت کی جیب سے موبائل نیچے لڑھک رہا تھا ۔ اچانک موبائل کی رنگ بجی تو سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔ کسی نے تیزی سے لپک کر موبائل اچک لیا۔ اس کے ساتھ ہی جیب سے چھوٹا سا ایک تہہ شدہ کاغذ بھی باہر نکلا۔..... ٹیلی فون والے نے غیر ارادی طور پر وہ کاغذ اٹھایا۔ شاید یہ بنک کی رسید تھی یا سودا سلف کی خریداری کا بل تھا.. اس نے تہہ کھولی تو اس پرایک تحریر درج تھی. اس نے تحریر پر تیزی سے نگاہ ڈالی.... ہجوم کو متوجہ کیا اور بلند آواز سے پڑھنے لگا۔

میری جان کے قریب تر امجد!

میں جانتی ہوں کہ تم مجھ سے بہت پیار کرتے ہو۔ ایک ہفتے سے میری گمشدگی پر تمھاری پریشانی کا سبب بھی تمھاری یہ محبت ہی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ابا نے مجھ سے موبائل فون چھین کر مجھ پر ہر طرح کی پابندی لگا دی ہے کیونکہ انہیں ہماری محبت کے بارے میں علم ہو چکا ہے اور وہ شدید غصے میں ہیں۔ انہوں نے مجھے سکول سے بھی اٹھا لیا ہے. یہ سب اس پھرتی سے ہوا کہ میں تمھیں اطلاح بھی نا کر سکی۔ یہ تو بھلا ہو میری دوست انعم کا جس نے تمھیں میرا ایڈریس دیا اور آج ہم دور سے ہی سہی لیکن ایک دوسرے کا دیدار تو کر سکے..۔ لیکن ابھی ہمیں احتیاط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے مجھ سے اگلی ملاقات کی جلدی تمنا نا کرنا۔.. میں انعم کے ذریعے تم سے دوبارہ رابطہ کروں گی..... میرے امجد! تم نے جس طرح  مجھ تک پہنچنے کے لیے آج صعوبتیں اٹھائیں اور پوچھتے پچھاتے میرا مکان ڈھونڈ لیا اس نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ مجھے اب تمھاری محبت پر کسی قسم کا شک نہیں رہا۔ گھر پہنچ کر انعم کے ذریعے اپنا حال دل پہنچانا۔-----اور ہاں! میری طرف سے اپنے دوست کا شکریہ ادا کر دینا.. خدا اسے خوش رکھے
میں تمھیں بہت یاد کروں گی

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور  ڈوب کر جانا ہے

فقط تمھاری
ثمینہ امجد

Monday, 23 May 2016

فرد کی آزادی کی اہمیت

0 comments


حقیقتیں اب یک جہت و یک سمت نہیں رہیں۔ یہ ملٹی ڈائمینشل ہو چکی ہیں۔ حقیقتیں اب پرت در پرت اور تہہ در تہ مختلف ہیتوں کی حامل ہیں۔ کسی کا سچ اب مکمل سچ نہیں ہے۔ بلکہ بہت سی نا مکمل، بسا اوقات متضاد سچائیاں مل کر ایک مکمل سچ کا روپ دھارتی ہیں۔ وہ مکمل سچ بھی ایک مخصوص دور کے لیے کارآمد ہوتا ہے ۔بعدازاں اسکی افادیت بتدریج کم ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے میٹر کا اینٹی میٹر ہے، پروٹان کا اینٹی پروٹان ہے۔ مثبت چارج کا متقابل منفی چارج ہے جو نا صرف مثبت چارج کو جواز فراہم کرتا ہے بلکہ اسکو متوازن اور نیوٹرل بھی بناتا ہے۔ ایسے ہی ہرتھیس کا اینٹی تھیس ہوتا ہے اور ہر ہائیپوتھیسسز کا اینٹی ہائیپوتھیسز ہے۔ ہائیپوتھیسسز کی ویلیدٹی کو جانچنے کے لیےاینٹی  ہائیپوتھیسسز کا ہونا ناگزیر ہے۔ اگر کسی کا دعواہ ہے فرد کی آزادی فرد سمیت پورے سماج کے لیے مہلک ہے تو لازم ہو گا کہ اس کے متقابل کوئی اس کا اینٹی تھیسز پیش کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش دے کہ فرد کی آزادی فرد سمیت پورے سماج کے لیے مہلک نہیں ہے۔ دنوں تھیسز اپنی ویلڈٹی اور حقانیت کو ثابت کرنے کے عمل سے گزرتے ہوئے بہت سے اہم علمی و فکری مراحل عبور کر کے ناصرف منطقی اور حقیقت سے نزدیک تر نتائج پر پہنچ جائیں گے بلکہ فکری تنوع بھی جنم لے گا۔ یہاں کوئی تیسرا مفکر یہ دعواہ بھی کر سکتا ہے کہ فرد کی آزادی فرد کے لیے تو مہلک ہے لیکن سماج کے لیے مفید ہے

اب ذرہ ایک ایسی صورتحال کا تصور کریں جہاں یہ تھیس قائم کرنا تو قابل ستائش ہے کہ فرد کی آزادی فرد سمیت پورے سماج کے لیے مہلک ہے لیکن وہاں کسی فرد یا گروہ کو اسکا انکار کرنے کی اجازت نہیں تو کیا خیال ہے وہاں زہنی ارتقا اور فکری نمو کی مشق ہو سکتی ہے؟ میرا خیال ہے نہیں۔۔

ایسی سوسائٹی میں جہاں متضاد حقائق ، متضاد نظریات یا متضاد ہائیپوتھیسسز کو جگہ میسر نا ہوں وہاں فرد کے ذہنی ارتقا کا عمل رک جاتا ہے۔ وہ نظریات و حالات کا مختلف زاویوں سے ادراک حاصل کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس کی فکر ایک نقطہ پر مرکوز ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ ایک یا چند ایک حقائق کی اندھی تلقید شروع کر دیتا ہے۔ ایسے معاشرے میں پھر  من پسند حقائق انتہاؤں کو چھونے لگتے ہیں کیونکہ متقابل اور متضاد حقائق اسے چیلنج کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے۔ یوں توازن بگڑنے لگتا ہے۔ مثال تو خطرناک ہے لیکن سوشل میڈیا کے تناظر میں یہی مثال جائز بنتی ہے۔ فرض کریں اگر کسی کالونی میں کوئی مزہب بے زار خاندان رہائش پذیر ہے وہ ایک ایسے معاشرے کا فرد ہے جہاں اسکے ساتھ والے گھر میں مذہب پسند  خاندان کو بسنے کی اجازت ہے۔ عین ممکن ہے کہ  مذہب پسند ہمسائے کی پرسکون اور آسودہ زندگی ہمیشہ اسے شک میں مبتلا کیے رکھے اور وہ اپنے نظریات پر مسلسل نظر ثانی پر مجبور رہے گا۔ مذہبی شخص بھی اپنے ہمسائے کی زندگی سے ضرور کچھ نا کچھ مثبت یا منفی نتائج اخذ کرکے اپنے نظریات و طرز زندگی میں ترامیم کرنے پر آمادہ ہو گا۔ گویا وہ علاقہ فکری واخلاقی حوالوں سے معتدل اور متنوع ہو گا۔۔۔ جمود کے خلاف مذاحمت پر آمادہ ہو گا۔۔ وہاں طرز زندگی کے نئے امکانات زیر بحث رہیں گے۔ ۔


لیکن ایسے معاشرے میں شدت پسند جنم لے گی جہاں کے  افراد کو کسی نا کسی طریقے سے یہ باور کروایا گیا ہے کہ حق کے علمبردارصرف وہ  ہیں ۔اس فیصلے کا اختیار صرف انہی کے پاس ہے کہ باقیوں نے کیا کرنا ہے۔ یہ رویہ خطرناک ہے۔ ہر فرد عقلمند ہے۔ ہر فرد کے پاس شعور ہے۔ ہر فرد کے جنیٹک میک اپ میں ایسا پروگرام انسٹال ہے جو اسے بہتر کا انتخاب کرنے، ضرر سے بچنے اور بقا کی جنگ لڑنے جیسے رویے اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔  لہزا چارٹر آف ھیومنیٹی  کی پہلی شق یہ ہے کہ ہر انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی زندگی کی سمت کا تعین کرے اور اپنے فیصلے جبرا ان پر مسلط کرے۔ ہم اس فرد کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر سکتے ہیں، اسے کنونس کرنے کے لیے اس سے مکالمہ کر سکتے ہیں لیکن اسے اس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ ہم سے ہر حال میں متفق ہو۔ جبرذدہ  سماج میں چند افراد اپنی دانش کے مطابق طے کر لیتے ہیں کہ افراد کے لیے کیا درست ہے، یہ ناقابل ترمیم ہو گا۔ باقی سب  غلط اور خرافات کا ایسا مجموعہ ہے جس پر مکالمے کی گنجائش بھی نہیں نکلتی۔  ایسا سماج یا ریاست نا صرف فرد کی آزادی کی غاصب ہے بلکہ اسکی ذہانت، دانش اور قوت فیصلہ کی بھی دشمن ہے۔ ایسے سماج کا فرد کبھی بھی ذہین، باشعور اور اعلی اخلاقیات کا حامل نہیں ہو گا۔ داخلی خواہشات کے سیلاب، متنوع مزاجی کے طاقتور جنیٹک پریشر اور بیرونی جبر کی آہنی بندشوں میں جکڑا 
یہ فرد یا تو مجذوب ہو گا۔ یا پھر منافق۔۔

میرے پاس امیرکن ایکونومسٹ فریڈرک اے ہائیک کا ایک آرٹیکل ہے۔ ہائیک کہتا ہے۔ علم کسی فرد یا مخصوص گروہ کی ملکیت نہیں ہے۔ بلکہ یہ سماج کے تمام افراد میں پھیلا ہوا ہے۔ کسی ایک فرد کے پاس نالج کا کچھ حصہ تو پو سکتا ہے لیکن یہ سمجھنا کہ سوسائیٹی کا کل علم کسی ایک شخص کے پاس مرتکز ہو سکتا ہے۔۔ احمقانہ خیال ہے۔ عملی طور پر یہ ممکن نہیں۔ لہذا یہ تصور بھی احمقانہ ہی ہو گا کہ کسی فرد یا قلیل التعداد افراد کے ایک  گروہ جس کے پاس کل علم کا ایک چھوٹا سا پورشن ہے  کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ  وہ ان کثیر التعدا افراد کی زندگیوں کے فیصلے کرے جو زائد علم کے مجموعہ کے حامل ہیں ۔ آپ میں سے بہت سے لوگ کبھی نا کبھی ایسے تجربات سے گزرے ہوں گے جب آپ نے دیکھا کہ ایک اخبار فروش کی سیاسی بصیرت پارلیمنٹ میں بیٹھے کسی قد آور اور نامور سیاستدان سے زیادہ ہے۔ یا ایک پرچون فروش مسئلہ طلب و رسد پر زیادہ اچھے طریقے سے بحث کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یا  کھیتوں میں بھینسیں چراتی دیہاتی عورت  اے سی کی ٹھنڈک تلے بیٹھی کسی خاتون ڈرامہ نویس سے زیادہ پائیدار بات کرتی ہے۔ تو خدارا فرد کو مکمل جاہل اور بےکل مت سمجھیے۔

ماضی قریب میں چرچ نے عرصہ دراز تک ایک مخصوص سماجی و مذہبی بیانیے کی سر پرستی کی اور جمود میں لپٹی ہوئی انارکی کا شکار رہا۔ جہاں سرکاری سرپرستی کی گود مین کھیلنے والے تھیسز کی نفی کرنے والوں اور راج کرتے تھیسز کا اینٹی تھیسز پیش کرنے والے معطون ٹھرائے گئے۔ فکری و علمی طور پر منفرد معصوم مگر مظلوم افراد پر مظالم ڈھائے گیے۔ چرچ نے کہا زمین چپٹی ہے۔ گلیلیو نے اس سچائی سے انکار کیا اور کہا نہیں زمین گول ہے۔ یہ بات سرپرست اور آمر چرچ کو ناگوار گزری اور ہزار ہا صعوبتیں دے کر گلیلیو کو مجبور کیا کہ وہ اپنا یہ بیان واپس لے کیونکہ یہ لوگوں کے ایمان متززل کرنے کا باعث ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں مصر کی ایک ہائی پیشیا نامی خاتون جو ریاضی دان ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفی اور سائنسدان بھی تھی۔ سکندریہ کی ایک درس گاہ میں فلسفہ اور علم فلکیات پڑھاتی تھی اور فارغ اوقات میں زمین سمیت مختلف سیاروں کی حرکیات کے مسائل حل کرنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ وہ  کلاسک پیریڈ کے علوم اور شہر کی سب سے بڑی لائیبریری کی کتابوں کی حفاظت کرتی ہوئی سماجی و مذہبی شدت پسندی کے ہاتھوں نا حق ماری گئی۔ اسکندریہ جو تہذیب اور معشیت کا بہت بڑا گڑھ تھا اور ہزار سال تک مصر کا دارلحکومت رہا۔ یہ اندوہناک المیہ اس شاندار شہر کے وسط میں وقوع پذیر ہوا۔ اس خاتون کو مارنے والا ایک کٹر عیسائی تھا۔ چرچ سے لے کر مسجد تک آپ کو ایسے لاتعداد واقعات ملیں گے جو اینٹی تھیسز پہیش کرنے والوں کی دشمنی کی گواہی دیں گے۔


چرچ تو زوال پذیر ہو گیا اور آجکل ماضی کی غلطیوں پر نا صرف شرمندہ ہے بلکہ معافیاں بھی مانگ رہا 
ہے۔ لیکن ہم اس وقت تاریخ کے اسی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پانچ سو سال یا ہزار سال پہلے چرچ کھڑا تھا۔ لائن توڑنا اور فراہم کردہ تصور سے منہ موڑنا ہمارے یہاں جرم  اور گناہ ہے۔ میرا سوال ہے۔۔ جب آپ لوگوں کو روایت سے ہٹ کر سوچنے نہیں دیں گے۔ بولنے نہیں دیں گے۔ پڑھنے نہیں دیں گے۔ تجربات کرنے نہیں دیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ کس طرح توقع رکھتے ہیں کہ ایسے سماج میں ترقی بڑھوتری اور ارتقائی عمل وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔۔ہم نے اپنی ایک سمت متعین کی۔ اپنے لیے ایک زاویہ نظر طے کیا اور باقی سب دروازے بند کر لیے۔ یوں ہم  تازہ ہوا اور نئی روشنی سے محروم ہو کر رہ گئے۔ ہم کچھ نیا  دیکھنے،نیا سننے ، نیا جانچنے، نیا پرکھنے اور نتیجتا کچھ نیا کرنے سے نابلد ہیں۔۔ ہم ہر شے، ہر بات اور ہر حقیقت کو مغرب کی سازش، جانبداری اور تعصب کا نام دے کر نہیں تال سکتے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ، دنیا کی بہترین تہذیب کے ضامن ہونے کے دعواہدار ہو کربھی ۔  کیمسٹری، الجبرا ،طب سمیت تمام سائنسی علوم  کے بانی ہو کر آج تہی داماں ہیں ۔ دنیا کی یونیورسٹیوں کی ریکنگ ہوتی ہے تو ہم اس لسٹ میں دور دور کہیں موجود نہیں ہوتے۔ وہ اس لیے کہ  ہم نے اپنے فرد کو روشن امکانات سے محروم کر کے اسکی سوچ پر تالے لگا رکھے ہیں۔ اس کے شکم میں نوالا تو ہے مگر ذہن کے طاقچے میں نئی روشنی کا چراغ نہیں ۔۔اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکامی سے لے کر فرقہ واریت کی آگ میں جلنے تک کی بنیادی وجوہات فرد کی آزادی اور احترام آزادی کی ناکامی کے مقدمے میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔۔

جن اقوام نے متنوع سچائیوں کو افراد کی زندگیوں میں جگہ دی۔ اور فرد کو حصول علم کے لیے اور راہ جستجو کے انتخاب کے لیے آزاد چھوڑ دیا وہ علمی و فکری حوالوں سے ترقی یافتہ ہیں۔ انکی سوچ ، علم اور فکر مختلف ڈائمینشنز میں پھیلی ہے۔ یہ وہ معاشرے ہین جو فرد کی ذہنی وجسمانی آزادی اور اسکی فری ول کی حفاظت کے کسی نا کسی حد تک ضامن ہیں۔ متنوع اورآزاد ماحول کی فراہمی فرد کی  زہنی ترقی کی موجب ہے۔ اور یہی ان معاشروں کی مادی ترقی کا باعث بنی ہے۔کیونکہ  فکری تبدیلیاں ہی مادی تبدیلیوں کا ماخذ ہیں۔ ورنہ قدرتی وسائل کی کثرت اور افرادی دولت مل کر بھی سماجی و سائنسی ترقی برپا نہیں کر سکتی۔ نرگس موالوالا ہرگز نرگس موالوالا نہیں بن سکتی تھیں اگر اسکی فردی شناخت اور آزادی کا بندوبست نا ہوتا۔ کوئی تسلیم کرے یا نا کرے لیکن یہ سچ ہے کہ یہ بندوبست کم از کم پاکستان میں اسے میسر نا آتا کیونکہ یہاں کی سماجی پابندیاں کسی بھی فطین خاتون کی صلاحتیوں کو نگلنے کے لیے کافی ہیں۔ صادق خان کا انتخاب کرنے والوں نے اس سے نام، شجرہ، نسب، حلیہ یا مذہب تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے  کی ضرورت محسوس نہیں کی۔  یہ شخصی آزادی کی فراہمی، اس کے تحفظ اور مثبت ثمرات کی 
جاندار مثالیں ہیں۔

 so there is no development without cognitive development. Without cognitive 
development you can hardly  adopt new things but cant create them. And cognitive development is not seen in prison. It always requires freedom.


ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ فرد کی آزادی کے تصور کو ہمارے یہاں بطور گالی استعمال کیا جاتاہے۔ جیسے یہ معیوب ہو۔ اور اسکے حصول کی کوشش جرم ہو۔ اکثر فیس بک پر اسلامی پیجز اور مختلف پوسٹس نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ جنہیں پڑھ کر یہ تاثر ملتا ہے جیسے فرد کو آزادی ملتے ساتھ ہی معاشرے میں افرتفری، جرائم کی بھرمار، لوٹ کھسوٹ اور بے حیائی کا دور شروع ہو جائے گا۔ خصوصا اگر آزادی کا یہ لفظ عورت زات سے منسوب ہو تو یوں ردعمل آتا ہے جیسے آزادی ملتے ساتھ ہی عورتیں برہنہ ہو کر گلیوں میں نکل آئیں گی۔ ایسی بات کرنا نہایت نا معقول اور بات کرنے والے کے ذہنی دوالیہ پن کا اظہار ہے۔میری نظر میں یہ بات کرنا عورت کی توہین ہے۔ گویا عورت وہ نجس اور مخبوط الحواس  مخلوق ہے جسے مرد نے زبردستی کپڑے پہنا کر تہذیب یافتہ بنا رکھا ہے اور جیسے ہی پہناوے کا حق عورت کے پاس گیا وہ کپڑے پہہنے سے انکار کر دے گی۔ میں یہاں عورت کا دفاع نہیں کروں گی بس ایک چھوٹا سا واقعہ گوش گزار کروں گی۔ ایک صاحب جن کا تعلق ایک نامور مذہبی جماعت سے ہے۔ شادی شدہ ہیں۔ ستڈی ویزہ پر برطانیہ میں مقیم ہیں۔ایک دن انکا میسج آیا۔ میری گرل فرینڈ بن جاؤ۔ میں نے کہا محترم۔ آپ پاگل ہیں؟ برطانیہ کی کی خوبصورت،، داد نظارہ دیتی گوریوں کو چھوڑ کر آپ مجھ پر کیوں مہربان ہیں۔ وہ صاحب افسردگی سے گویا ہوئے۔ سوچا کچھ تھا اور نکلا کچھ۔۔۔۔ یہ گوریاں بہت عیار ہیں۔ لفٹ نہیں کرواتیں۔ جلدی دام میں نہیں آتیں۔۔۔ تو قارعین عورت جب اپنی تمام تر ذمہ داری کے ساتھ باہر نکلتی ہے یا نکلے گی تو اس کے بائیولوجیکل سسٹم میں کم ازکم اتنی ذہانت تو فیڈ ہے کہ وہ اپنے لیے مناسب چیزوں کا چناؤ کر سکے۔ اگر ایسا نا ہوتا تو انجلینا مرکل سینٹ کے اجلاس میں قابل اعتراض لباس  پہن کرجاتی  اور
ہیلری کلنٹن بھی فحش انداز سے الیکشن کمپین چلاتی۔

مرنا اور بعد ازمرگ اسکا حساب یقینا ضروری ہو گا۔ لیکن صاحب مرنے سے پہلے جینا اس سب سے زیادہ اہم ہے۔ فرد کی زندگی، اسکا معیار۔ بامقصد کائینات کے رازوں کو فتح کرتے ہوئے اذہان کی موجودگی کسی بھی سماج کی صحت مندی کے لیے اہم ہے۔ لیکن یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہم میں سے ہر شخص اپنے ہمسائے کو۔کولیگ اپنے کولیگ کو باپ اپنے بچے کو، دوست اپنے دوست کو، بھائی اپنے بھائی کو خود سے مختلف سوچنے اور کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ بطور فرد ہمیں فرد کی آزادی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اپنے اردگرد دیکیے افراد اپنی شخصی ازادی اور انفرادی شناخت کے لیے لشکر کی مانند آگے بڑھ رہے ہیں اگر ہم ڈیسنٹ طریقے سے انہیں راستہ نہیں دیں گے تویہ طے ہے کہ ہم انہیں روک نہیں پائیں گے
کیونکہ بغاوت ان کے اطوار سے عیاں ہے اور فتح انکی پیشانیوں پہ ثبت ہے





Tuesday, 19 January 2016

ریاستی بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے

0 comments

بظاہر منتخب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں وقتاً فوقتاً باہمی رسا کشی کا گمان گزرتا ہے لیکن یہ گمان اب تک ’بے پر کی اڑانا‘ کے مصداق بے پرکی ہی ثابت ہوا ہے۔ یہ قیاس آرائیاں ، جن کو قصداً ہوا دی جاتی ہے، دراصل ماضی کی روایات کی نفسیاتی کڑی ہیں جس کا شکار اب تک ہماری سیاست رہی ہے۔ آمریت کی رسیا قوتوں کے لیے جمہوریت کا موجودہ تسلسل بدہضمی کا سبب بن رہا ہے کیونکہ کہ ان کے موقع پرست معدوں کو جمہوریت کی دوا موافق نہیں آتی۔ ماضی کی طرح ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب عسکری اداروں اور جمہوری قوتوں کے درمیان ذرا سے اختلافات جنم لیتے ہیں تو یہ فصلی بٹیرے آمریت کو گود میں اٹھانے کے لیے تالی بجاتے ہوئے باہیں کھول دیتے ہیں اور یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے محض آمریت ہی عوامی مسائل کی اکلوتی مسیحا ہے۔ ان کا اپنا عالم یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی منافرت اور سرحد پار کے عناد کو ملکی مسائل سمجھ لیا ہے اور عوام کو بھی زبردستی یہی باور کرانے پر مصر ہیں کہ اللہ لوکو ! تمھارے مسائل وہ نہیں جن کے لیے تم ووٹ دینے کے لیے قطار بنائے کھڑے ہو بلکہ تمھارے مسائل تو وہ ہیں جو ہم در و دیوار پر نقش کرتے ہیں۔ لیکن بدلتے ملکی حالات اور عوام کے ابھرتے سیاسی شعور نے ان جمہوریت مخالف طاقتوں کو واضح پیغام دیا کہ نہیں اب قوم ایسے تجربات کے لیے بالکل تیار نہیں۔ کچھ ہماری وردی والی سرکار نے بھی اب تک نہایت سمجھداری کا ثبوت دیا ہے اور تمام تر دھماچوکڑی سے کنارہ کش رہتے ہوئے مدبرانہ خاموشی سے ان شر پسند عناصر اور جمہوریت مخالف قوتوں کو لال جھنڈی دکھائی ہے ۔
امن و جمہور مخالف قوتیں اب بھی مختلف حربوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ کہیں آپ کو احمدیوں کے خلاف لن ترانیاں سنائی پڑ رہی ہوں گی تو کہیں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں۔ نہ ہی کوئی عام شخص ایسی مجرمانہ حرکت کی جرات کر سکتا ہے جب تک اس پیچھے ہلا شیری دینے والا مضبوط ہاتھ موجود نا ہو وہ بھی اس صورت میں جب کئی ماہ سے شر انگیز مواد کی تشہیر پر پابندی عائد ہے۔ کہیں ان قوتوں کو بھارت کی مخالفت کے مروڑ اٹھتے ہیں اور کہیں فتوی بازی کے ذریعے صدرِ پاکستان کے خالف مہم جوئی کی سعی کی جاتی ہے۔ جبکہ مہم کار بھی وہ ہیں جن کے اپنے پیٹ منافع خوری کے مقابلہ جات میں اول انعام یافتہ ہیں۔ مگر حالیہ عسکری و سویلین پالیسیوں سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ چالیس سال تک نظریاتی صحراو ¿ں کی خاک چھاننے کے بعد ہمیں اب ذرخیز فکری جزیرہ میسر آنے کو ہے جہاں کسی ایک مکتبہ فکر کی اجارہ داری نہیں ہو گی بلکہ ہر مکتبہ فکر کو بھرپور انداز سے اپنی فکر کے نا صرف اظہار بلکہ تشریح کا حق ہو گا اور ریاست ان کے اس حق کی حفاظت کرے گی.. یہی لبرل ازم کا نقارہ ہے. یہی زندہ اور وسیع القلب معاشروں کی پہچان ہے۔ جدید دنیا کی تہذیب ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم اب رنگ، نسل، مذہب اور قومیت سے ابھر کر ایک متحد انسانی تشخص قائم کریں جو مستقبل میں دوسری دنیاو ¿ں کے ساتھ میل ملاپ میں ہماری پہچان بنے گا ۔.
آثار بتاتے ہیں کہ ہم بھی یہ سبق سیکھ رہے ہیں تب ہی ریاستی بیانیہ بہت خاموشی اور سلیقے سے بدل رہا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ایک روشن خیال اور لبرل ازم کی روایات سے مزین نمونے کی طرف بڑھ رہاہے۔ گزشتہ ہفتے جس طرح احمدی برادری کے خلاف نفرت آمیز بینر کا سختی سے نوٹس لیا گیا اور ہر قسم کی شرانگیز تقریر و تحریر کی راہ روکنے کے لیے کارروائی کی گئی، یہ سب ٹھنڈی خوشبودار ہوا کے جھونکوں کی مانند تھا۔ ریاست ایک نئی قومی پالیسی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس بات کا خوشگوار احساس اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کل ٹیلیویژن پر آئزک ٹی وی نامی چینل کی نشریات دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ چینل پچھلے دو دن سے مسیحی برادری کے ساتھ کرسمس منا رہا ہے۔ اپنے وطن کی اقلیتی قوم کو میسر یہ آزادی اور رواداری کی فضا دیکھ کر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہے۔
اب تک ریاستی بیانیہ داخلی طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔ تبدیلی سست مگر پائیدار ہے( یہ دعویٰ اس امید کیا جا رہا ہے کہ پائیدار ہو) اس لیے اوپری سطح تک ثمرات پہنچنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ اس لیے معتدل قوتوں کو تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جن دوستو کو یہ گلہ ہے کہ احمدیوں کے خلاف لگے بینر کا نوٹس تو لیا گیا مگر بینر اتارا نہیں گیا۔ انہیں ریاست کی اس جرات پر کلمہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ حکومت نے اس قبیح فعل کو جرم تو گردانا۔

جماعت اسلامی کی فرسودہ سیاست

0 comments
مودی کی مذہبی منافرت پر مبنی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب علم شخصیت نے فرمایا۔ ہمیں بلا جھجک اور بلا مبالغہ یہ دعویٰ کرنا چاہیے کہ پاکستانی عوام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی ستر سالہ تاریخ میں کبھی کسی مذہبی جماعت کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں نہیں بھیجا۔ یوں پاکستانی عوام بھارتی عوام سے زیادہ عقل مند اور سمجھدار واقع ہوئے ہیں۔ کہنے کو یہ بات معمو لی اور مذاق لگتی ہے۔ رجعتی نظریات کے متوالے اسے تعصب نظری سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔مگر سرحد کے دونوں جانب کی بنیاد پرست جماعتوں کی حالیہ حرکات و سکنات اس نقطہ نظر کو تقویت دینے کے لیے کافی ہیں کہ مذہبی جماعت کا سیاسی چناو ¿ انتشار اور پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور ایک گروہ کے نظریات کو کل پر لاگو کرنا مسائل کو جنم دیتا ہے۔ مودی نے پچھلے چند مہینوں میں جو گل کھلائے اس کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ عوامی ردعمل بہار الیکشن میں شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ عالمی سطح پر بھی وزیراعظم کو سبکی کا سامنا ہے۔ برطانیہ میں مودی کے خلاف مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کہیں کہیں سے ہندو طالبان کا لقب بھی عنایت ہوا چاہتا ہے۔
سرحد کے اِس پار موجود پاکستان کی سب سے نمایاں مذہبی اور متحرک سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے رخساروں پر بھی آج کل مودی ازم کے رنگ کھل رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے حالیہ مرحلے میں عبرت ناک شکست کے بعد جماعت اضطراب اور بوکھلاہٹ کا شکار نظر آرہی ہے۔ پچھلے دنوں پہ در پہ ہونے والے چند معمولی مگر اہم واقعات نے جماعت اور اس کے کارکنوں کی محدود سیاسی بصیرت، غیر معتدل رویوں اور تعصبانہ نفسیات کو عیاں کیا ہے۔ کراچی میں طالبات پر تشدد کرنا قابل مذمت فعل تھا جس کا جمعیت و جماعت کے پاس کوئی معقول جواز نہیں۔ اگرچہ اس واقعے کی تردید کی گئی مگر سمجھنے والے سمجھتے ہیں اور جاننے والے جانتے ہیں کہ پہاڑ بنانے والوں کو رائی درکار ہوتی ہے۔ اس رائی کا پہاڑ بنانے والوں کے لاشعور میں جمیعت کا سابقہ ریکارڈ قوی امکان کی صورت میں موجود تھا جس کے مطابق ماضی میں جمیعت کے خود ساختہ اصلاحی کارکنان لڑکے لڑکیوں پر تیزاب پھینکا کرتے تھے. لہذا کچھ بعید نہیں کہ جس خبر کو پروپیگنڈا کہہ کر مسترد کیا جا رہا ہے یہ حال یا مستقبل کی حقیقت ثابت ہو۔
کراچی کی ہی ایک تقریب میں امیرِ جماعت کی شعلہ بیانیاں بے ربط اور بے وزن معلوم ہوئیں۔موصوف جہاں قائد و اقبال کو جماعت کی رکنیت سے نواز رہے تھے وہیں انہوں نے یہ کہہ کر متعدد پاکستانیوں کی شہریت کینسل کرنے کی کوشش کی کہ سیکولزم کے خواہش مند ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسیں۔ اس قسم کے بیانات پس پردہ چھپے تعصب، آمریت و بادشاہت کی ممکنہ تمنا اور مذہبی شدت پسندی کا عندیہ دیتے ہیں۔ ایسا غیر ذمہ دار بیان دینے سے پہلے امیر جماعت کو ایک دفعہ یہ ضرور سوچنا چاہیے تھا کہ یہ دھرتی جتنی رجعت پسندوں کی ہے اتنی ہی جدت پسندوں کی بھی ہے۔ جدت پسندوں کے اسلاف بھی اسی دھرتی کی گود میں مدفن ہیں۔ صدیوں سے یہاں بسنے والے لوگ جنہیں آزادانہ سوچنے، سمجھنے اور اپنی طرز زندگانی کا انتخاب کرنے پیدائشی حق حاصل ہے آپ کس اصول کے تحت انہیں یہ حکم نامے جاری کر رہے ہیں۔ آپ ایک جمہوری عمل کے پیروکار ہیں۔ اس جمہوری سسٹم کے تحت ہر الیکشن میں ٹکٹ جاری کر کے ووٹ لینے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے کم از کم آپ کو جمہوریت کا بنیادی اصول معلوم ہونا چاہیے کہ مخالفین سے آپ بھلے اتفاق کریں یا نا کریں مگر ان کے موقف کا احترام کیے بنا اور ان کے حق رائے دہی کو تسلیم کیے بغیر جمہوری عمل پورا نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں ڈنڈا نہیں مکالمہ کارگر ہوتا ہے۔ مکالمے کے ذریعے اپنا موقف جیتیے، عوام کو قائل کیجئے۔ اپنے حق میں ذہن سازی کیجئے۔ ووٹ لیجئے، اقتدار میں آئیے اور اسے قانون کی شکل میں لاگو کر دیجئے۔ ڈنڈے کے زور پر اپنے مطالبات منوانے کو لغت جدید میں طالبانیت کہتے ہیں۔
دو دن پہلے کی ایک خبر مزید مایوس کن تھی۔ جب معلوم پڑا کہ جماعت نے کے پی کے بوائز سکولوں میں پیٹی ٹراوز کو بطور یونیفام لاگو کرنے کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ یہ نظام تعلیم کو امریکن کرنے کی کوشش ہے لہٰذا بوائز کا ڈریس کوڈ شلوار قمیض رہے گا۔ اگر یہ مخالفت مذہب کی محبت میں ہے تو عرض کرنا چاہوں گی کہ اسلام کا ڈریس کوڈ شلوار قمیض نہیں ہے۔ نہ ہی اسلام کو پینٹ کوٹ پہ کوئی اعتراض ہے۔ اس لیے جماعت کا یہ اعتراض قومی نہیں، ذاتی مسئلہ ہے۔ مانند پڑتی سیاست کو پھر سے چمکانے کی یہ کوشش بہت سطحی ہے۔ اس دقیانوسی ہتھکنڈوں سے شاید آپ چند شر پسند عناصر کی حمایت تو حاصل کرلیں مگر لمبے عرصے تک یہ ہتھکنڈے ساتھ دینے کی سکت نہیں رکھتے۔ جماعت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام کا مسئلہ رجعت پسندی نہیں ہے. ہمارے مسائل بہت جینوئن اور سنجیدہ ہیں جو سطحی نعرہ بازی اور کھینچا تانی سے حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ عوام آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ برق رفتاری سے آگے بڑھتی دنیا سے قدم ملانا چاہتے ہیں جبکہ آپ انہیں پچھلی جانب کھینچنے پر مصر ہیں۔
جماعت اسلامی ملک کی واحد جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں جمہوری نظام رکھتی ہے۔ جماعت میں باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں جس میں خالص جمہوری طریقے سے امیر منتخب کیا جاتا ہے۔ ایسی مثال کسی دوسری پارٹی میں نہیں ملتی۔ اس کے باوجود جماعت سیاست کے افق کا ڈوبتا ہوا ستارہ بنتی جا رہی ہے۔ تلملاہٹ اور غیر معیاری اور غیر جمہوری رویہ اپنانے کی بجائے جماعت کو اپنی شکست کی اصل وجہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں سنجیدگی سے اس سوالات پر غور کرنا چاہیے کہ بہترین جمہوری نظام، خدمت خلق اور ایماندار امیدواروں کی نامزدگی کے باوجود کیا وجہ ہے جو پاسکتانی عوام ہر دفعہ انہیں رد کرتے ہیں؟ کہیں ان کی سیاست کی عمارت غلط بنیادوں پر تو استوار نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پارٹی ایجنڈے عوامی مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے ان نظریات پر قائم کیے گئے ہیں جو عوامی مسائل کے حل تجویز کرنا تو درکنار کسی طور پر عوامی مسائل کی تعریف پر ہی پورا ہی نہیں اترتے؟